موسم بدلنے تک

ابھی موسم بدلنے میں بہت دن ہیں
ابھی تو جانے والے موسموں کے درد باقی ہیں
ابھی پیڑوں کی شاخوں میں
بہت سے ڈار سے بچھڑے ہوئے زخمی پرندے
سانس لیتے ہیں
ابھی تو پیلے پتوں میں
گئی پت جھڑ کی اک سسکی چھپی ہے
پتاور کے تلے پھیلی زمیں میں
پرانے زلزلوں کی کپکپی ہے
فضا میں گرد کی اک سیلی سی اک چادر تنی ہے
نئی بارش برسنے تک
ہمیں تو گرد میں ہی گرد ہونا ہے
مگر اک مسلہ ہے
تمہاری دہ ہوئی صد رنگ کلیوں کے تحفظ کا
انہیں تو پھول بننا ہے
مگر ساری جڑیں تخلیق کی قوت سے عاری کوکھ جیسی ہیں
فضا کی کہنگی میں موت کی آہٹ رچی ہے
مگر ہم کو تو جینا ہے
نمو کی قوتوں کے ساتھ جینا ہے
سو تم ایسا کرو ، موسم بدلنے تک
یہ سب کلیاں کسی محفوظ گوشے میں چھپا دو
ذرا بارش برسنے دو
زمیں بادل سے ملنے دو
درختوں سے خزاں کی گرد ڈھلنے دو
میں ساری کونپلیں تازہ زمینوں میں اُگاؤں گی
میں کل اپنی نئی گُڑیا جلاؤں گی۔
۔۔۔۔۔۔

 

منصورہ احمد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s