وقت ملا تو سوچیں گے

کیوں تو اچھا لگتا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
تجھ میں کیا کیا دکھتا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
سارا شہر شناسائی کا دعویدار تو ہے لیکن
کون ہمارا اپنا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
اور ہم نے اس کو لکھا تھا، کچھ ملنے کی تدبیر کرو
اس نے لکھ کر بھیجا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
موسم، خوشبو، باد صبا، چاند، شفق اور تاروں میں
کون تمہارے جیسا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
یا تو اپنے دل کی مانو یا پھر دنیا والوں کی
مشورہ اس کا اچھا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
کیوں تو اچھا لگتا ہے، وقت ملا تو سوچیں گے
وقت ملا تو سوچیں گے، وقت ملا تو سوچیں گے

تتلیاں پکڑنے کو

کتنا سہل جانا تھا
خوشبوں کو چھو لینا
بارشوں کے موسم میں شام کا ہر ایک منظر
گھر میں قید کر لینا
روشنی ستاروں کی مٹھیوں میں بھر لینا
کتنا سہل جانا تھا
خوشبوں کو چھو لینا
جگنوں کی باتوں سے پھول جیسے آنگن میں
روشنی سی کر لینا
اس کی یاد کا چہرہ خواب ناک آنکھوں کی
جھیل کے گلابوں پہ دیر تک سجا رکھنا
کتنا سہل جانا تھا
اے نظر کی خوش فہمی!اس طرح نہیں ہوتا
“تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے”

بُرے حالات میں دوست کہاں پاس آتے ہیں

تو ہی بتا اے دلِ بیتاب ہم کو
خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں

میں تو یک مُشت اُسے سونپ دوں سب کچھ لیکن
اِک مٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں

مدتوں بعد اُسے دیکھ کر دل بھر آیا
ورنہ صحرائوں میں سیلاب کہاں آتے ہیں

میری بے درد نگاہوں سے اگر بھولے سے
نیند آجائے بھی تو اب خواب کہاں آتے ہیں

تنہا رہتا ہوں دن بھر میں بھری دنیا میں
حالات بُرے ہوں تو پھر یار کہاں آتے ہیں

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
اب اس کی مرضی
کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے
بہار کو انتظار لکھ دے
سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے
وفا کے رستوں پہ چلنے والوں
کی قسمتوں میں غبار لکھ دے
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میں
ہجر کو حصہ دار لکھ دے
محبتوں میں گزرنے والی رُتوں کو ناپائیدار لکھ دے
شجر کو کم سایہ دار لکھ دے
ہوا کو لکھنا سکھانے والوں
ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے ۔۔۔ !!!