تتلیاں پکڑنے کو

کتنا سہل جانا تھا
خوشبوں کو چھو لینا
بارشوں کے موسم میں شام کا ہر ایک منظر
گھر میں قید کر لینا
روشنی ستاروں کی مٹھیوں میں بھر لینا
کتنا سہل جانا تھا
خوشبوں کو چھو لینا
جگنوں کی باتوں سے پھول جیسے آنگن میں
روشنی سی کر لینا
اس کی یاد کا چہرہ خواب ناک آنکھوں کی
جھیل کے گلابوں پہ دیر تک سجا رکھنا
کتنا سہل جانا تھا
اے نظر کی خوش فہمی!اس طرح نہیں ہوتا
“تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے”

بُرے حالات میں دوست کہاں پاس آتے ہیں

تو ہی بتا اے دلِ بیتاب ہم کو
خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں

میں تو یک مُشت اُسے سونپ دوں سب کچھ لیکن
اِک مٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں

مدتوں بعد اُسے دیکھ کر دل بھر آیا
ورنہ صحرائوں میں سیلاب کہاں آتے ہیں

میری بے درد نگاہوں سے اگر بھولے سے
نیند آجائے بھی تو اب خواب کہاں آتے ہیں

تنہا رہتا ہوں دن بھر میں بھری دنیا میں
حالات بُرے ہوں تو پھر یار کہاں آتے ہیں

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
اب اس کی مرضی
کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے
بہار کو انتظار لکھ دے
سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے
وفا کے رستوں پہ چلنے والوں
کی قسمتوں میں غبار لکھ دے
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میں
ہجر کو حصہ دار لکھ دے
محبتوں میں گزرنے والی رُتوں کو ناپائیدار لکھ دے
شجر کو کم سایہ دار لکھ دے
ہوا کو لکھنا سکھانے والوں
ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے ۔۔۔ !!!

موسم بدلنے تک

ابھی موسم بدلنے میں بہت دن ہیں
ابھی تو جانے والے موسموں کے درد باقی ہیں
ابھی پیڑوں کی شاخوں میں
بہت سے ڈار سے بچھڑے ہوئے زخمی پرندے
سانس لیتے ہیں
ابھی تو پیلے پتوں میں
گئی پت جھڑ کی اک سسکی چھپی ہے
پتاور کے تلے پھیلی زمیں میں
پرانے زلزلوں کی کپکپی ہے
فضا میں گرد کی اک سیلی سی اک چادر تنی ہے
نئی بارش برسنے تک
ہمیں تو گرد میں ہی گرد ہونا ہے
مگر اک مسلہ ہے
تمہاری دہ ہوئی صد رنگ کلیوں کے تحفظ کا
انہیں تو پھول بننا ہے
مگر ساری جڑیں تخلیق کی قوت سے عاری کوکھ جیسی ہیں
فضا کی کہنگی میں موت کی آہٹ رچی ہے
مگر ہم کو تو جینا ہے
نمو کی قوتوں کے ساتھ جینا ہے
سو تم ایسا کرو ، موسم بدلنے تک
یہ سب کلیاں کسی محفوظ گوشے میں چھپا دو
ذرا بارش برسنے دو
زمیں بادل سے ملنے دو
درختوں سے خزاں کی گرد ڈھلنے دو
میں ساری کونپلیں تازہ زمینوں میں اُگاؤں گی
میں کل اپنی نئی گُڑیا جلاؤں گی۔
۔۔۔۔۔۔

 

منصورہ احمد